نئی دہلی،30؍مارچ ( ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا ) سی بی ایس ای کاغذ لیک معاملے میں اسٹوڈنٹس کے شدیداحتجاج کی وجہ سے دہلی پولیس کی کرائم برانچ اس کی تلاش میں مصروف ہے۔اس کے لئے گوگل کی طرف سے بھی تعاون مانگا گیا ہے۔دراصل، اسی وسلبلور نے ہی سی بی ایس ای چیئرمین کو امتحان سے کئی گھنٹے پہلے ہی ایک ای میل بھیجا تھا۔کرائم برانچ نے یہ ای میل کے بارے میں گوگل کی طرف سے جواب مانگا ہے۔یہ میل جی میل آئی ڈی سے بھیجا گیا تھا اور اس میں ہاتھ سے لکھے سوالنامے کی تصاویر بھی منسلک تھی۔واٹس اپ پر پیپرشیئرہونے کی خبروں سے کرائم برانچ نے 10سے زیادہ واٹس اپ گروپس کی نشاندہی کی ہے، جس میں ہر ایک میں 50-60 رکن تھے۔تحقیقات اور پوچھ گچھ کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔دریں اثنا پیپرلیک کو لے کر 5طالب علموں کے گروپ نے انسانی وسائل کی ترقی کے وزیر پرکاش جاوڈیکر سے ملاقات کی ہے۔ سی بی ایس ای چیئرمین کے استعفی کی مانگ کے ساتھ طالب علموں نے کہا ہے کہ سی بی ایس ای کی غلطی کی سزا تمام طالب علموں کو نہیں ملنی چاہئے۔ادھر دہلی میں پرکاش جاوڈیکر کے گھر کے قریب دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔کانگریس کے سینئر لیڈر ملک ارجن کھڑگے نے کہا ہیکہ یہ ایچ آر ڈی وزارت کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔28 لاکھ اسٹوڈنٹس کا مستقبل داؤ ہے۔ہم اس معاملے کو پارلیمنٹ میں اٹھائیں گے۔ وہیں کپل سبل نے مرکزی حکومت پر حملہ بولتے ہوئے کہا ہے کہ سی بی ایس ای پیپرلیک صرف پیپر لیک نہیں ہے۔ایس ایس سی اسکیم ایک اور بڑا مسئلہ ہے۔اگر حکومت اس کی ذمہ داری نہیں لیتی ہے تو کون لے گا؟